دقیقہ سنج

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - بہت جلد بات کی تہہ کو پہنچ جانے والا، زودفہم، باریک بین، زیرک، تیز طبع۔ "اگر کچھ فرق ہے تو بہت باریک ہے جسے دقیقہ سنج اور حساس آلات کی مدد کے بغیر محسوس نہیں کیا جاسکتا۔"      ( ١٩٧٠ء، اردو سندھی کے لسانی روابط، ١٦٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'دقیقہ' کے ساتھ فارسی مصدر 'سنجیدن' سے صیغہ امر 'سنج' بطور لاحقۂ فاعلی لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٩٢٦ء سے "شرر، مضامین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بہت جلد بات کی تہہ کو پہنچ جانے والا، زودفہم، باریک بین، زیرک، تیز طبع۔ "اگر کچھ فرق ہے تو بہت باریک ہے جسے دقیقہ سنج اور حساس آلات کی مدد کے بغیر محسوس نہیں کیا جاسکتا۔"      ( ١٩٧٠ء، اردو سندھی کے لسانی روابط، ١٦٣ )